Khwaja Mir Dard Ghazal 2 Questions Answers Urdu Class 12
Khwaja Mir Dard Ghazal 2
Questions and Answers
Class 12
URDU NBF
FBISE
غزل نمبر2
شاعر کا نام:  خواجہ میر درد
فیڈرل بورڑکےلیے
کچھ شاعر کے بارے میں

پیدائش:1719

وفات:1785

صوفی شاعر

باعمل

طبیعت تصوف کی طرف  زیادہ مائل  تھی۔

تصوف:

وحدت الوجود

—وحدت الشہود۔

ماخذ (غزل) :     دیوان درد

“تہمت چنداپنے ذمے دھرچلے “

سوالات کے جوابات
س:  تہمت چنداپنے ذمے دھرچلے مصرے کی وضاحت کریں؟

ج :       صوفیائے کرام کا یہ عقیدہ ہے کہ انسان دنیا میں مجبور محض ہے انسان وہی کرتا ہے جو خداچاہتا ہے۔انسان جب پیداہوتاہے تو و ہ معصوم ہوتا ہے جوں جوں ہوش سنھبالتاہے دنیا کی رنگینیوں میں کھوجاتاہے اور اپنی تخلیق کے مقصدکو بھول جاتاہے زندگی میں دانستہ اور نادانستہ کئی گناہ سرزردہوتے ہیں جب موت کا وقت آتاہے تو وہ گناہ کا بوجھ لیے دنیا سے رخصت ہو جاتاہے ۔انہی گناہوں کو شاعرنے ْْْتہمت چندٌ کا نام دیا ہے۔

س: شاعر جینے کے ہاتھوں کس طرح مرچلاہے؟ یا شاعر زندگی کو طوفان کیوں کہتاہے؟

ج : میردرد زندگی کوطوفان سے تشبہہ دیتے ہیں کیونکہ انسان اس کو اس زندگی میں قدم قدم پر مصائب ،تکالیف اور دکھوں سے گزرناپڑتا ہے۔قدم قدم پر غم اور زندگی کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔شاعر زندگی کو انہی تلخیوں کو طوفانی کیفیت کا حامل قرار دیتے ہیں۔درد کا زمانہ سیاسی ابتری اور مغلیہ سلطنت کے زوال کا زمانہ تھا ۔ حالات کی سنگینی سے متاثرہونافطرتی بات ہے اسی لئے کہتے ہیں وہ زندگی کے ہاتھوں تنگ آچکے ہیں ۔

س:  دوستو دیکھاتماشایاں  کا     ، تم رہواب ہم تو اپنے گھر چلے کی وضاحت کریں؟

ج : شاعر دیناکی بے ثباتی کو بیان کرتے ہوئے کہتاہے کہ دنیا عارضی مقام ہے یہاں انسان کا قیام چند روزہ ہے اس لئے دنیا کی رنگینیاں کسی تماشے کی طرح ہیں قرآن مجید میں دنیا کی زندگی کو دھوکہ کہاگیاہے شاعر کہتاہے کہ ہم دنیا کا تماشادیکھ چکے ہیں اب تم اس سے لطف اندوزہوہم اپنے گھریعنی آخرت کی طر ف جارہے ہیں کیونکہ انسان کی منزل یہ دنیا نہیں بلکہ آخرت ہے۔قرآن آخرت کے گھر کو بہترین ٹھکانا قراردیتاہے۔

س: آہ میر دردکا جی کس طرح جلاتی ہے؟

ج : غزل کا یہ روایتی مضمون ہے کہ ایک عاشق صادق عشق میں تکلیف برداشت کرتاہے یہ غم اس کے دل و جگرکو چھلنی کردیتے ہیں فطرت انسانی ہے کہ غموں کی وجہ سے انسان گھبراجاتاہے اس کی وجہ سے اس کے دل سے آہ نکلتی ہے مگراس کا محبوب پر اثرنہیں ہوتا اس لئے شاعر آہ سے مخاطب ہے کہ ہم تو تمہیں تب مانیں گے جب تمہاراجادومحبوب پر چلے اور وہ ہم سے محبت و مہربانی کرنے لگے اگر تم اثرنہ کر سکو تو خواہ مخواہ ہمارادل مت جلاو ہمیں تکلیف ہوتی ہے۔

س: میردردؔاپنے آپ کو دل ریش کیوں کہتاہے؟

ج : دل ریش سے مراد” زخمی دل والا” کے ہیں ۔ شاعرکہتے ہیں کہ ہم نے عشق کے میدان میں مشکلات و صدمات کا سامنا کیا ہے   جب کہ دوسری طرف محبوب کے ظلم و ستم کا خاتمہ بھی نہیں ہوتا جب انسان پے درپے محرومیوں اور ناکامیوں شکارہوتو دل میں تکلیف کا احساس شدت اختیارکردیتاہے۔شاعر اسی کرب سے گزررہاہے وہ کہتاہے کہ بہت سے لوگ ناکامیوں کے بعدکامیاب ہوچکے ہیں۔مگرایک ہم ہیں  کہ ہمارامحبوب  نظرالتفات نہیں کرتاصوفیانہ پہلو سے مطلب یہ ہے کہ کتنے لوگوں کو  اللہ اپنے لطف و کرم سے  نواز چکاہے مگرہم یہاں بھی محروم ہی ہیں۔

س: دردؔ کچھ معلوم ہے یہ لوگ سب   ،  کس طرف سے آئے کیدھرچلے   کی وضاحت کریں؟

ج : ابتدائے آفرنیش سے ہی انسان حیات و ممات کے فلسفے پر غورو فکر کرتا رہا ہے ۔بڑے بڑے مفکرین ،حکماء و صوفیاء نے ان گتھیوں کو سلجھانے کی کوشش کی ہےصوفیاءے کرام عرفان ذات کی منزل طہ کرکے معرفت الہی کے حصول کے لئے آگے بڑھتے ہیں زندگی و موت کی حقیقت جانے کے لئے وہ حیران ہوجاتے ہیں۔میردردؔ اس پیچیدہ فلسفے کو بیان کرتے ہوئے حقیقت تک رسائی چاہتے ہیں زندگی وموتکے اسراراور رموز سے آگہی حاصل کرناچاہتاہے کہ دنیا میں لوگ کہاں سے آتے ہیں اور مرکرکہاں جاتے ہیں۔

س: چشم نم اور دامن ترچلے ترکیب کی وضاحت کریں؟

ج : انسان کی پیدائش اور موم بتی کے جلنے میں مماثلت ہے انسان پیدائش کے وقت اور موم بتی جلتے وقت روتے ہیں موم بتی جل کے ختم ہوتی ہے تو اس کا موم پگھلتا ہے  تو کئی پروانوں کا خون شمع کی گردن پر ہوتاہے اسی طرح انسان ساری زندگی شعوری اور لاشعوری طور پر گناہ کرتاہے وہ اپنی فطری معصومیت کھوکرگناہوں کا بوجھ اپنے سرپر لے کر منزل کی طرف راوانہ ہوتا اسی وجہ سے شاعر نے انسانی زندگی کوشمع کی مانندقرار دیاہے۔

س: میر دردؔشیخ پر کیا طنز کر رہے ہیں؟

ج : اس شعر میں تصوف کا موضوع موجود ہے۔ عموماً صوفیائے کرام اور شیخ میں نہیں بنتی ۔شیخ و واعظ  انسان کی ظاہرحالت کو دیکھ کراس کی حقیقت کااندازہ کرتے ہیں ۔صوفیا کے نزدیک  دل وہ مقام ہے جہاں انسان اپنے محبوب حقیقی کا جلوہ دیکھ سکتاہے لیکن یہ ضروری ہے کہ انسان کادل پاک صاف ہولالچ و ہوس سے دورہو اور خداکی سچی محبت سے سرشارہو۔ شاعر کے مطابق شیخ صاحب خداکودل کے بجائے باہر تلاش کرتے ہیں۔یعنی وہ ظاہری عبادت کو سب کچھ سمجھتے ہیں لیکن ان کا دل خالی ہے۔خداکو تلاش کرنا ہے تو دل میں کر وہاں تلجیات ربانی نظرآئیں گی۔

س: ہم نہ جانے پائیں باہر آپ سے مصرے کی وضاحت کریں؟

ج : صوفیا کا عقیدہ ہے کہ سب سے پہلے اپنی پہچان کرو اور یہ خدائی پہچان کا سبب بنے گا یعنی عرفان ذات عرفان الہی کا سبب ہے۔ شاعر کہتاہے کہ ہم اپنی ہستی سے باہرنہ جاسکے اعتدال سے نہ بڑھے اس لیے ہم جدھر بھی گئے اللہ نے ہمیں بھٹکنے سے بچالیا۔وہ ہمارے راستے کی رکاوٹ بنا۔خداکا عشق انسان کے دل میں ہو تو وہ بھٹک نہیں سکتا۔عرفان الہٰی کا حصول ایک صوفی کو اپنی پہچان کراتا ہے۔اسی لیے وہ اپنے آپ سے باہرنہیں جاتا۔

س: ہم دنیا میں تنہاآتے ہیں جاتے ہوئے کیا ساتھ لے کر جاتے ہیں؟

ج : انسان دنیا میں اکیلا آتا ہے پیدائش کے وقت معصوم ہوتاہے عقل و شعوف میں پختگی آتی ہےوہ عشق مجازی اور حقیقی تجربات سے گزرتاہے محبوب کی یاد اس کا سرمایہ حیات بن جاتی ہے۔ وہ محبوب کی یاد اور محبت کو اپنے سینے میں بسا لیتاہے اور ہر چیزسے عزیز سمجھتاہے دنیا سے رخصت کے وقت یہ حسین یادیں اس کے ساتھ ہوتی ہیں۔اس شعر سے یہ مراد بھی لی جاسکتی ہے کہ رخصت کے وقت اس کے اعمال اس کے ساتھ ہوتے ہیں جس کی بنیاد پر جزاوسزاکا تعین کیا جائے گا۔

س: میر دردؔ نے زندگی کو چنگاری سے تشبہہ کیوں دی ہے؟

ج : شاعر نے دراصل زندگی کی ناپائیداری کو موضوع بنایاہے چنگای کی زندگی نہایت عارضی اور مختصرہوتی ہے تھوڑی دیر چلتی ہے پھربجھ جاتی ہے اسی طرح انسان کی زندگی مختصرہے یہ پلک جھپکتے گزرجاتی ہے اور موت ہرلمحہ انسان کا پیچھا کرتی ہے اور کسی بھی وقت اس کی موت آسکتی ہے اس وجہ سے زندگی کو چنگاری کے مانندکہاہے۔

س: میردردؔ ساغرچلے کی ترکیب کس مقصد کے لئے استعمال کرتے ہیں؟

ج : دنیا ایک عارضی مقام ہے اس فانی دنیا سے انسان کو مقرر وقت پر کوچ کرناہے  یعنی ہر ذی روح کو موت کو ذائقہ چکھناہے اس وجہ سے میردرد ؔ ساقی سے کہتے ہیں کہ جب تک زندگی ہے شراب معرفت یعنی اللہ کی محبت کا جام چلتارہنا چاہیے نہ جانے کس لمحے زندگی کی شام ہوجائے۔اس لئے ہر شخص اپنے دل میں اللہ کی محبت پیداکرے تاکہ اخروی زندگی میں کامیاب ہوسکے۔

KHWAJA MIR DARD GHAZAL 1
FOR MORE GHAZALS  

 

THANKS FOR READING!


SOURCE: SKIWORDY



CREDITS: RESPECTED TEACHER

Sir Abid Mehmood

 



LIKE US ON FACEBOOK FOR UPDATES



FACEBOOK

https://www.facebook.com/skiwordy/

Leave a Reply