URDU CLASS 12 Khwaja Mir dard ghazal 1 Urdu class 12 Notes 2nd year fbise شاعر کا نام:  خواجہ میر درد Urdu Class !2 Khwaja mir Dard Questions and answers
Khwaja Mir Dard Ghazal 1
Questions and Answers
Class 12
URDU NBF
FBISE
غزل نمبر1
شاعر کا نام:  خواجہ میر درد
فیڈرل بورڑکےلیے
کچھ شاعر کے بارے میں

پیدائش:1719

وفات:1785

صوفی شاعر

باعمل

طبیعت تصوف کی طرف  زیادہ مائل  تھی۔

تصوف:

وحدت الوجود

—وحدت الشہود۔

ماخذ (غزل) :     دیوان درد

“ہم تجھ سے کس ہوس کی فلک جستجو کریں “

سوالات کے جوابات
س:            شاعر فلک سے کسی قسم کی جستجو کیوں نہیں کرتا؟

ج :        شاعری میں آسمان کو تقدیر کی علا مت سمجھا جاتا ہے۔ شعراء اپنی نا کامی کا ذمہ دار آسمان کو قرار دیتے ہیں اور اسے برا بھلا کہتے ہیں۔میر درد کے سینے میں بے شمار تمنا ئیں اور آرزوئیں مچلتی تھیں۔لیکن زمانے نے ان کو پورا نا کیا۔ مسلسل مایوسیوں اور نا کا میوں سے دل مردہ سا ہو گیا اب اس میں کوئی خو اہش پیداہی نہیں ہو تی تو فلک سے پھر جستجو کرنا ہی بے کار ہے۔

س:            مٹ جائیں اک آن میں کثرت نمایاں کی وضاحت کریں  ۔

ج :        اس مصرعے میں شاعر نے وحدت الوجود کا فلسفہ سمویا ہے۔ دنیا میں بے شمار چیزیں نظر آتی ہیں یہ سب مختلف نظر آتی ہیں لیکن جب ہم اللٰہ کی ذات کا نعرہ لگا ئیں       تو یہ ایک ہی نظر آئیں گی۔ان میں ایک ہی ذات پر تو جلو ہ گر ہے۔ کثرت کا نا م مٹ جا ئےگا وحدت ہی وحدت نظر آنے لگے گی۔ دل میں خواہشات ہیں ان کے علاوہ کچہ  نہیں ہوتا مگر ولی اللہ جب نعرہ لگائیں   تو دل سے آلود گیاں  ختم ہو جا ئیں گی صرف اللہ کا جلوہ باقی رہ جاتا ہے۔

س:            شاعر تردامنی کے باوجود اپنے آپ پر کیوں رشک کر رہا ہے۔

ج :        صوفی لوگ اپنی ظا ہری عبادت کی بجائے اپنے باطن پر نگاہ رکھتے ہیں ان کا عقیدہ ہے کہ دل کی دنیا کا رو شن رکھنا ہی حقیقی کام ہے۔اس قسم کا خیال یہاں  بیا ن کیاگیا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ شیخ صاحب کی نظر ہمارےظاہر پر ہے۔اس وجہ سے وہ ہمیں گنا ہگار خیال کرتے ہیں لیکن ہمارا باطن اس قدر پاکیزہ و پا ک دامن ہے کہ فرشتےااپنی معصومیت ہماری پاک دامنی پر رشک کرتے ہیں ہم ظاہر میں جیسے بھی ہوں باطن بالکل صاف ہے۔

س:            شاعر اپنے آپ کو  سر تا قدم شمع کیوں کہتا ہے؟

ج :         میر درد اپنے آپ کو شمع سے تشبیہ دیتے ہوے کہتے ہیں کہ شمع تو خا موشی سے پگھلتی ہےاس مین مو جو د دھاگہ اس کی زبا ن ہو تاہے۔ موم بتی پگھلتی ہے اس کے آنسو نکلتے ہیں مگر وہ زبان سے فریاد نہیں کرتی۔اسی طرح ایک عاشق صادق  غموں کو ہنسی خوشی سہتا ہے وہ جلتا ہےمگر فریا د نہیں کرتا کیو نکہ وہ جانتا ہے  کہ  عاشق صا دق عشق میں صبر و رضا کا شیو ہ اختیا ر کر تا ہے اور شکوہ شکایت کو آداب عشق کے خلاف سمجھتا ہے طاقت رکھنے کے با وجو د چپ رہتا ہے۔

س:            خواجہ میر درد اپنے آپ کو آئینہ نا قبول کیوں کہتے ہیں ؟

ج :        آئینہ دھندلا ہو تو عکس خراب نظر آتا ہے اگر صاف ہو تو عکس واضح ہوتا ہےگویا آئینے کی طرح صا ف ہے ان کے دل میں کسی کے لیے نفرت نہیں  وہ سچی اور کھری بات کرتے ہیں مصلحت اندیش نہیں ہیں جب وہ دوسروں کی اصلاح کے لیے سچ بو لتے ہیں تو وہ برا مان جاتے ہیں اس وجہ سے وہ ہم سے منہ موڑ لیتے ہیں۔ دنیا میں حق با ت کرنے والوں سے لوگ منہ موڑ لیتے ہیں۔

س:            “نے گل کو ہے ثبا ت نہ  ہم کو ہے اعتبار    “مصرے کی وضاحت کریں۔

ج :        شاعر نے یہ سبق دیا ہے کہ دنیا فانی اور انسان فانی تر ہےدنیا میں موجود تمام مادی اشیاء  غیرخقیقی  اور عارضی ہیں۔ پھول حسن کی علا مت ہے خو شبو دیتا ہےمگر اس کی زندگی چند روزہ ہےاسی طرح انسان کی زندگی بھی مختصر ہےمگر انسان اس زندگی کے لیے لمبی لمبی لگائے بیٹھا ہے۔تخلیق کے اصل مقصد کو بھلا دیتا ہے ۔ شاعر کہتا ہے کہ جو زندگی عارضی فانی ہے تو پھر اس دنیا سے دل لگا نے کی  ضرورت کیا ہے ہم کس لالچ میں اس دنیا کی خواہش کریں صرف محبت الہی کو ہی سرمایہ حیات بنانا چاہیے۔

س:            شاعر زاہدان  شہر کو دست سبو کی بیعت کیوں کروانا چاہتا ہے؟

ج :        اُردو فارسی غزل میں صوفی اور زاہد یا شیخ ایک دو سرے پر طنز کرتے رہتے ہیں ۔ اہل طریقت ایل شریعت کو اپنا راستہ اختیار کرنے کا مشورہ دیتے رہتے ہیں ۔  میر درد دست سبو کا استعارا اختیار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ معرفت کا جا م پی لو  خالی خولی دعوے نہ کرو کیو نکہ خدا کی محبت کے لیے روحانی پا کیزگی لازم ہے۔ ریاکاری کرنا درست نہیں۔ جب تک دل سے دنیاوی محبت ، لالچ اور ہوس نہ نکالا جائے خدا کہ محبت حاصل نہیں ہوتی۔ شاعر اسی لیے تمام زاہدان شہر کو ریاکاری چھوڑ کر اپنے طریقےپر چلنے کا مشورہ دیتا ہے۔

KHWAJA MIR DARD GHAZAL 2
FOR MORE GHAZALS  
THANKS FOR READING!


SOURCE: SKIWORDY



CREDITS: RESPECTED TEACHER

Sir Abid Mehmood

 



LIKE US ON FACEBOOK FOR UPDATES



FACEBOOK

https://www.facebook.com/skiwordy/