Ghulam Hamdani Mushafi Ghazal 1 Questions Answers Ghulam Hamdani Mushafi Ghazal 1 Questions Answers Urdu Class 12 (FBISE)
Ghulam Hamdani Mushafi Ghazal 1 Questions Answers
Class 12
URDU NBF
FBISE
غزل نمبر
1

شاعر کا نام: غلامہمدانی مصحفی

فیڈرل بورڑکےلیے

کچھ شاعر کے بارے میں

پیدائش: 1748

وفات:1824

 

تخلص: مصحفی

اردو  میں آپ کے آٹھ دیوان ہیں۔

مثنویاں اور قصیدے بھی لکھےمگر غزل گو ئی آپ کی شہرت کی وجہ ہے۔

محاورہ ،فارسی تراکیب کا استعما ل آپ کی شاعری کی پہچان ہے۔ 

شاعری میں لکھنؤ کا رنگ غالب ہے۔

 

ماخذ (غزل) :     کلیات مصحفی

“جو ہم سے وعدہ دیدار یار ٹھہرے گا  “

سوالات کے جوابات
س:    مصحفی کے بے قراردل کو چین کیسے ملے گا؟

ج :        شاعر نے غزل کا روایتی مضمون بیان کرتے ہوئے کہا کہ عشق کا ایک خاصہ بے قراری اورتڑپ ہے اور عاشق صادق کو ہمیشہ بے قرار رکھتاہے یہ فطرتی عمل بھی ہے عاشق محبوب کے دیدار کا خواہش مند ہوتاہے اس وجہ سے اس کا دل بے چین رہتا ہے اس کا حل صر ف یہ ہے کہ محبوب بھی نظر التفات کرتے ہوئے اپنا دیدار کرانے کا وعدہ کرے تو اس سے کچھ نہ کچھ دل کو تسلی ہو گی اور بے قرار دل کو سکون ملے گا۔مصحفی کے دل کو بھی اسی صورت میں قرارآئے گا۔

 
س:            مصحفی نسیم کو کس کی آواز پر اور کیوں چلنے کو کہتا ہے؟


ج:    شاعر نے کلی کے چٹکنے کی آواز کو قافلے کی گھنٹی کی مانند قرار دیا ہے۔پرانے زمانے میں جب لوگ سفر کرتے تو روانگی سے قبل گھنٹی بجائی جاتی تھی کہ اب چلنے کا وقت ہے۔غنچے کے چٹکنے کی آواز اسی گھنٹی کے مشابہ ہوتی ہے باد نسیم چلتی ہے تو غنچے کھل کر پھول بنتے ہیں اسی لیے شاعر باد نسیم کو کہتاہے کہ غنچوں کی آواز کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھ۔جب تک آواز آرہی ہے تمہاراسفر جاری رہناچاہیے کہیں نہ کہیں تازہ بہار کا قافلہ ضرور رکے گا۔

س:   سنگ مزار پر کے مزار پر نہ ٹھہرنے کی شاعر کیا وجہ بتاتاہے؟


ج: عشق انسان کو ہر لمحہ بے قرار رکھتاہے چاہے وہ حقیقی ہو یا مجازی ۔اس بے قراری میں عاشق اپنی جان بھی قربان کردیتاہے۔لیکن مرنے کے بعد بھی اس کی بے قراری اسے چین نہیں لینے دیتی ۔اسی لیے وہ کہتاہے کہ ہم محبوب کے وصال کے لیے قبر میں بھی بے چین رہیں گے اس وجہ سے ہم تڑپیں گے ہماری قبر کا کتبہ یا نام کی تختی گرکر ٹوٹ جائے گی۔شاعر نے اپنی بے قراری کی بیان کیا ہے۔

 
س:  ناوک مثرگان کے سامنے دل داغدارنہ ٹھہرنے کی کی وجہ شاعر نے بتائی ہے؟


ج: شاعر محبوب کے حسن کی تعریف کرتے ہوئے کہتا ہے ہمارے محبوب کی پلکیں تیر کی طرح ہیں۔ ججس طرح کمان سے نکلا تیر ہدف پر جاکر لگتا ہے محبوب کی پلکوں سے نظروں کے تیر سیدھا ہمارے دل پر وار کرتے ہیں یہ تیر نظر دلوں کو شکار کرلیتے ہیں اور عاشق کا دل زخمی ہو جاتاہے ۔مصحفی بھی کہتاہے کہ ہمارا دل حسین لوگوں کی نظروں کے سامنے نہ ٹھہرسکے گا یہ زخمی دل تمہارے تیر نظرکا شکا رہوکر ہی رہے گا۔

 

س:  گل اور خارچمن میں کیوں نہیں ٹھہریں گے؟


ج: باغ سے مراد دنیا ہے یہ دنیا ایک باغ ہے اس میں طرح طرح کے پھول ہیں اس دنیا کی رنگینی انسان کو اپنی طرف کھینچتی ہے اور انسان ان رنگینیوں میں کھو جاتا ہے اپنی تخلیق کے مقصد کو بھول جاتا ہے دنیا کی تمام رنگینی ار رعنائی اس وقت تک ہے جب تک زندگی ہے اس وقت تک پھول اور کانٹے رہتے ہیں ۔زندگی کے دم قدم سے رونقیں ہیں زندگی میں آنے والے پر لطف لمحات سے مستفید ہونا چاہیے زندگی ختم تو سب کچھ ختم ہو جائے گا۔

 
س: مصحفی کس کو شتاب بلارہا ہے؟


ج: محبوب کا انتظار کرنا غزل کا روائتی مضمون ہے عمومایہ انتظار طویل ہوتاہے اور انتظار کو موت سے زیادہ سخت کہا جاتا ہے اس انتظار میں ایک ایک پل گزارنا مشکل ہوتاہے ۔جدائی کی رات اور بھی مشکل ہوتی ہے یہ لمحات جان لیواہوتے ہیں مصحفی اسی کیفیت سے دو چار ہیں کہتے ہیں کہ شب ہجر میں جو جان ہمارے لبوں تک آجائے گی ہم اسے تمہارے انتظار میں ٹھہرا رکھیں گے اے ہمارے محبوب جلدی آنا۔

س: مصحفی کے لحد میں بے قرار ٹھہرنے کی کیا وجہ ہے؟


ج: عشق میں عاشق صادق ہر لمحہ بے قرار رہتا ہے یہ بے قراری عاشق کو تڑپاتی رہتی ہے یہ اردو فارسی شاعری میں راوئتی موضوع ہے مصحفی کے مطابق اس کی ساری عمر بے قراری میں گزری۔ اسی حالت میں دنیا سے رخصت ہونے وقت آپہنچا۔۔ اپنے احباب سے کہتا ہے کہ اے ساتھیو مجھے قبر میں دفن نہ کرو میں قبر میں بھی بے قرار ہوں گا دل کی یہ بے قراری مجھے قبر میں بھی چین نہیں لینے دے گی یہ بے قراری ہماری طبعیت کا خاصہ ہے۔

FOR MORE GHAZALS  

 

 

THANKS FOR READING!

Ghulam Hamdani Mushafi Ghazal 1 Questions Answers



SOURCE: SKIWORDY



CREDITS: RESPECTED TEACHER

Sir Abid Mehmood

 



LIKE US ON FACEBOOK FOR UPDATES



FACEBOOK

https://www.facebook.com/skiwordy/

Leave a Reply